سنگِ گراں ہے راہ میں تمکین یار کا
اب دیکھنا ہے زور دلِ بے قرار کا
اک خُو سی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ
وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا
آؤ، مٹا بھی دو خلشِ آرزوئے قتل
سمجھو مجھے اگر تمہیں ہے آدمی کی قدر
میرا اک التفات نہ مرنا ہزار کا
گر صبح تک وفا نہ ہوا وعدۂ وصال
سن لیں گے وہ مآل شبِ انتظار کا
اب محو بُوئے گل پہ ہوا کب دل حزیں
ہم کو چمن سے یاد ہے جانا بہار کا
ہر سمت گردِ ناقۂ لیلےٰ بلند ہے
پہنچے جو حوصلہ ہو کسی شہسوار کا
غربت کے مشغلوں نے وطن کو بھلا دیا
خانہ خراب خاطرِ الفت شعار کا
حالؔی بس اب یقیں ہے کہ دلی کے ہو رہے
ہے زرہ زرہ مہر فزا اس دیار کا
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment