Wednesday, 4 January 2017

ہے نرالی کشش عشق جفا کار کی راہ

ہے نرالی کششِ عشق جفا کار کی راہ
چاہِ کنعاں میں ملی مصر کے بازار کی راہ
رہ نما یاد الہٰی کا ہوا عشقِ صنم
پہنچے ہم کعبۂ مقصود کو کہسار کی راہ
کثرتِ شوق نے از بسکہ کیا عرصہ تنگ
مردہ نکلا نہ مِرا کوچۂ دل دار کی راہ
شہرۂ حسن نے دیدار کا مشتاق کیا
نکہتِ گل نے بتائی مجھے گلزار کی راہ
پیشتر سب سے کیا طالعِ بد نے بیدار
حشر کے روز بھی دکھلائی مجھے یار کی راہ
تنگدستی نے زمانے میں یہ پایہ ہے رواج
یوسف اس عہد میں تکتا ہے خریدار کی راہ
نہیں مجھ سا کوئی دنیا میں سکندر طالع
آئینہ رو نے مجھے قتل کیا پیار کی راہ
لبِ بام آ کے جو دیدار کرے عام وہ شوخ
ایک ہو جائے ابھی کافر و دیندار کی راہ
پیار سے کہتے ہیں ان کو مسیحا عاشق
ناز سے چلتے نہیں خانۂ بیمار کی راہ
دیکھ کر صورتِ احباب کو پھر جاتا ہے
کج ادائی سے ہے الٹی تِرے رخسار کی راہ
زلف مشکیں کے جو سودے میں ہے دل گھبراتا
پوچھتا پھرتا ہوں ایک ایک سے تاتار کی راہ
حسن کے عشق نے ہستی میں عدم سے کھینچا
شوقِ یوسف نے دکھائی ہمیں بازار کی راہ
کھینچ لی ہے تو لگانے میں تأمل نہ کرو
کھوٹی ہوتی ہے میاں آپ کی تلوار کی راہ
عید ہو گی رمضاں جائے گا اے بادہ کشو
بند رہنے کی نہیں خانۂ خمار کی راہ
غیرِ حق کو میں سمجھتا ہوں خیالِ باطل
آتؔش اک دل میں نہیں ہوتی ہے دو چار کی راہ

حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment