Saturday, 3 June 2023

بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بنے ہیں مدحتِ سلطان دو جہاں کے لیے

سخن زباں کے لیے اور زباں دہاں کے لیے

گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل

در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کے لیے

وہ شاہ جس کا محب امن و عافیت میں مدام

محبت اس کی حصار حصیں اماں کے لیے

وہ شاہ جس کا عدو جیتے جی جہنم میں

عداوت اس کی عذاب الیم جاں کے لیے

کہیں مقدمہ الجیش انبیاء و رسلؑ

کہیں وہ خاتمۃ الباب داستاں کے لیے

سپہر گرم طواف اس کی بارگاہ کے گرد

زمین سر بسجود اس کے آستاں کے لیے

مدینہ مرجع و ماوائے اہل مکہ ہوا

مکین سے رتبہ یہ حاصل ہوا مکاں کے لیے

اسی شرف کے طلبگار تھے کلیم و مسیح

نویدِ امتِ پیغمبر زماںﷺ کے لیے

شفیع خلق سراسر خدا کی رحمت ہے

بشارت امت عاصی و ناتواں کے لیے

شفاعت نبویﷺ ہے وہ برق عصیاں سوز

کہ حکم خس ہے جہاں کفر دو جہاں کے لیے

مریضِ حرص و ہوا پائے کب شفا جب تک

وہ چارہ گر نہ ہو اس دردِ جانستاں کے لیے

خدا کی ذات کریم اور نبیﷺ کا خلق عظیم

گنہ کریں تو کریں رخصت انس و جاں کے لیے

حریف نعت پیمبرﷺ نہیں سخن حالی

کہاں سے لائیے اعجاز اس بیاں کے لیے


الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment