کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دہر سے رِندوں کو اہلِ وعظ
وصل مدام سے بھی ہماری بجھی نہ پیاس
ڈوبے ہم آبِ خضرؑ میں اور نیم جاں رہے
کل کی خبر ہو تو جھوٹے کا رو سیاہ
تم مدعی کے گھر گئے اور مہماں رہے
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حالی کے بعد کوئی نہ ہمدرد پھر ملا
کچھ راز تھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment