یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ آتے ہیں آپ
ناصحِ قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ
بس بہت طعن و ملامت کر چکے
کیوں زباں رِندوں کی کھلواتے ہیں آپ
ہے صراحی میں وہی لذت کہ جو
واعظو! ہے ان کو شرمانا گناہ
جو گنہ سے اپنے شرماتے ہیں آپ
کرتے ہیں اک اک کی تکفیر آپ کیوں
اس پہ بھی کچھ غور فرماتے ہیں آپ
چھیڑ کر واعظ کو حالیؔ خلد سے
بسترا کیوں اپنا پھِکواتے ہیں آپ
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment