کچھ ہنسی کھیل سنبھلنا غمِ ہجراں میں نہیں
چاک دل میں ہے مِرے جو کہ گریبان میں نہیں
عشق نے مصر میں سو بار زلیخا سے کہا
فتنۂ دہر ہے جو حسن وہ کنعاں میں نہیں
یاں بھی ہے کون و مکاں سے دلِ وحشی آزاد
ٹھہرتے، ٹھہرتے دل یونہی ٹھہر جائے گا
بات جو آج ہے وہ کل شب ہجراں میں نہیں
کس طرح اس کی لگاوٹ کو بناوٹ سمجھوں
خط میں لکھا ہے وہ القاب جو عنواں میں نہیں
دی ہے واعظ نے کن آداب کی تکلیف نہ پوچھو
ایسے الجھاؤ تیرے کاکلِ پیچاں میں نہیں
آدمی ہو تو کبھی پاس محبت کے نہ جائے
اب بھی کہتے ہیں کہ ہم غیر کے نقصان میں نہیں
بے قراری تھی سب امید ملاقات کے ساتھ
اب وہ اگلی سی درازی شبِ ہجراں میں نہیں
حالیِؔ زار کو کہتے ہیں کہ ہے شاہد باز
یہ تو آثار کچھ اس مردِ مسلماں میں نہیں
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment