Wednesday, 4 January 2017

ملنے کی جو نہ کرنی تھی تدبیر کر چکے

ملنے کی جو نہ کرنی تھی تدبیر کر چکے
آخر کو ہم حوالۂ تقدیر کر چکے
افسوں شبِ وصال کے واں کارگر نہیں
نالے شبِ فراق کے تاثیر کر چکے
اے دل اب آزمائشِ تقدیر کا ہے وقت
وہ امتحانِ برشِ شمشیر کر چکے
کہتے ہیں طبعِ دوست شکایت پسند ہے
ہم شکوہ ہائے غیر بھی تحریر کر چکے
بھولے رہے تصورِ مژگاں میں چند روز
دیکھا تو دل کو ہم ہدفِ تیر کر چکے
جاں لب تک انتظار میں آتی ہے بار بار
مشاطہ جلد تر کہیں تقریر کر چکے
دل لے کے ایک میرا یہ فارغ ہوئے ہیں وہ
گویا کہ اک جہان کو تسخیر کر چکے
حالؔی اب آؤ پیروئ مغربی کریں
بس اقتدائے مصحفیؔ و میؔ کر چکے

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment