ملنے کی جو نہ کرنی تھی تدبیر کر چکے
آخر کو ہم حوالۂ تقدیر کر چکے
افسوں شبِ وصال کے واں کارگر نہیں
نالے شبِ فراق کے تاثیر کر چکے
اے دل اب آزمائشِ تقدیر کا ہے وقت
کہتے ہیں طبعِ دوست شکایت پسند ہے
ہم شکوہ ہائے غیر بھی تحریر کر چکے
بھولے رہے تصورِ مژگاں میں چند روز
دیکھا تو دل کو ہم ہدفِ تیر کر چکے
جاں لب تک انتظار میں آتی ہے بار بار
مشاطہ جلد تر کہیں تقریر کر چکے
دل لے کے ایک میرا یہ فارغ ہوئے ہیں وہ
گویا کہ اک جہان کو تسخیر کر چکے
حالؔی اب آؤ پیروئ مغربی کریں
بس اقتدائے مصحفیؔ و میؔ کر چکے
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment