Thursday, 11 November 2021

پرواز کا تھا شوق مجھے آسمان تک

 پرواز کا تھا شوق مجھے آسمان تک

بجلی گری تو جل گئے کھیتوں کے دھان تک

کچے گھروں کے گاؤں میں برسات رہ گئی

پکی سڑک بنی بھی تو پکے مکان تک

کیسے بتاؤں تم کو اولمپک میں کیا ہوا؟

میری تو اپنی دوڑ ہے گھر سے دکان تک

پروردگار میرے گناہوں کو بخش دے

مجھ کو سنائی دیتی نہیں اب اذان تک

آیا وہ مسکرا کے مِرا زخم لے گیا

اک شخص جس پہ میں نے دیا تھا نہ دھیان تک

فصلوں کا خواب بھوک کی آنکھوں میں رہ گیا

گاؤں کے کھیت کھا گئے لیکن کسان تک

اک لڑکی اپنے اپنے آپ میں گھٹ گھٹ کے مر گئی

گھر تک خبر گئی نہ کبھی خاندان تک

اس بار بال و پر ہی نہ کاٹے گئے فقط

قینچی کتر گئی ہے مِرا آسمان تک

گھر گھر میں جھانکتی ہے یہاں تیسری نظر

رہتی ہے کوئی بات کہاں درمیان تک

ساگر یہ فیصلہ بھی کوئی فیصلہ ہوا

جس میں لیا گیا نہ ہو میرا بیان تک


توفیق ساگر

No comments:

Post a Comment