Friday, 9 September 2022

نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے

 الزاموں کی صلیب


نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے

دھیرے دھیرے سرکتا ہے

چیڑ کے نوکیلے برفیلے سائے میں

اُلو شور مچاتے اور کُتے بھونکنے لگتے ہیں

میں چار سُو رونے کی آوازیں سنتا ہوں اور ڈرتا ہوں

میں بھی سسکنے لگتا ہوں

ننھا سا دل خوف سے دھک دھک کرتے ہوئے سمجھاتا ہے

کیوں ڈرتے ہو؟ یہ تو ہوا ہے

نہیں نہیں کوئی روتا ہے، میری طرح

شاید آہ و بکا کی یہ آواز، گریہ زاری سب کی ہے

جن کی ماؤں کو راتوں کی رونقوں نے

اور اندھی کر دینے والی روشنیوں نے نگل لیا ہے

پھر میں دبک کر

ماں کی بانہوں اور سینے کی نرماہٹ کے لمس کی حسرت میں

کمبل کے کونے کو پکڑ اور اپنے تکیے سے لپٹ کر

گھنٹوں سسکا کرتا ہوں اور گھنٹوں ٹھٹھرا کرتا ہوں


حمیدہ معین رضوی

No comments:

Post a Comment