الزاموں کی صلیب
نیلے فلک پر چاند اگر ہمت کرتا ہے
دھیرے دھیرے سرکتا ہے
چیڑ کے نوکیلے برفیلے سائے میں
اُلو شور مچاتے اور کُتے بھونکنے لگتے ہیں
میں چار سُو رونے کی آوازیں سنتا ہوں اور ڈرتا ہوں
میں بھی سسکنے لگتا ہوں
ننھا سا دل خوف سے دھک دھک کرتے ہوئے سمجھاتا ہے
کیوں ڈرتے ہو؟ یہ تو ہوا ہے
نہیں نہیں کوئی روتا ہے، میری طرح
شاید آہ و بکا کی یہ آواز، گریہ زاری سب کی ہے
جن کی ماؤں کو راتوں کی رونقوں نے
اور اندھی کر دینے والی روشنیوں نے نگل لیا ہے
پھر میں دبک کر
ماں کی بانہوں اور سینے کی نرماہٹ کے لمس کی حسرت میں
کمبل کے کونے کو پکڑ اور اپنے تکیے سے لپٹ کر
گھنٹوں سسکا کرتا ہوں اور گھنٹوں ٹھٹھرا کرتا ہوں
حمیدہ معین رضوی
No comments:
Post a Comment