اس نے مکتوب میں لکھا ہے کہ مجبور ہیں ہم
اور بانہوں میں کسی اور کی محصور ہیں ہم
اس نے لکھا ہے کہ ملنے کی کوئی آس نہ رکھ
تیرے خوابوں سے خیالوں سے بہت دور ہیں ہم
ایک ساعت بھی شبِ وصل کی بھولی نہ ہمیں
آج بھی تیری ملن رات پہ مغرور ہیں ہم
چشم تر قلب حزیں آبلے پاؤں میں لیے
تیری الفت سے تِرے پیار سے معمور ہیں ہم
ان کی محفل میں ہمیں اذنِ تکلم نہ ملا
ان کو اندیشہ رہا سرمد و منصور ہیں ہم
یوں ستاروں نے سنائی ہے کہا نی اپنی
گویا افکار سے جذبات سے معذور ہیں ہم
اس نے لکھا ہے جہاں میں کریں شکوہ کس سے
دل گرفتہ ہیں غم و درد سے بھی چور ہیں ہم
تیرا بے گانوں سا ہم سے ہے رویہ شہزاد
باوجود اس کے تِرے عشق میں مسحور ہیں ہم
آصف شہزاد
No comments:
Post a Comment