Friday, 9 September 2022

نہیں اب با وفا کوئی نہیں ہے

 نہیں اب با وفا کوئی نہیں ہے

مگر شکوہ گلہ کوئی نہیں ہے

بھٹکتا ہی پھرے ہے قافلہ وہ

وہ جس کا رہنما کوئی نہیں ہے

یہ نگری ہے فقط گونگوں کی نگری

کسی سے بولتا کوئی نہیں ہے

یہ کیسے لوگ ہیں بستی ہے کیسی

کسی کو جانتا کوئی نہیں ہے

چلاتے ہیں یہاں بس اپنی اپنی

کسی کی مانتا کوئی نہیں ہے

بہت ہی دور ہیں ہم تم سے لیکن

دلوں میں فاصلہ کوئی نہیں ہے

یہاں بس تو ہی تو ہے اور میں ہوں

تِرے میرے سوا کوئی نہیں ہے

غریبِ شہر ہیں اس شہر میں ہم

ہمارا آشنا کوئی نہیں ہے

دریچوں سے مِری آہٹ کو سن کر

نظیر اب جھانکتا کوئی نہیں ہے


نظیر میرٹھی

No comments:

Post a Comment