اس طرح کوئی خود کو سنوارا نہیں کرتا
میں یونہی تو مڑ مڑ کے نظارا نہیں کرتا
دریا کو ابھی علم نہیں میری انا کا
میں ڈوب تو جاتا ہوں کنارا نہیں کرتا
دیوار بنا رہتا ہوں اس جسم کے آگے
جب تک کہ وہ خود کوئی اشارا نہیں کرتا
ہر وقت قلم کار تِرے فین، تِرے یار
کیا کیا میں تِرے ساتھ گوارا نہیں کرتا
ہر بار محبت میں یہی کہتا ہوں خود سے
اس بار سنبھل جاؤں دوبارا نہیں کرتا
کچھ دن کہ لیے پیار نہیں دوں گا کسی کو
دیکھوں تو بھلا کون گزارا نہیں کرتا
ایسے تو یہ بوتل کبھی کھلنے نہیں والی
کرتا ہے مِرا دل تو تمہارا نہیں کرتا
ضیا مذکور
No comments:
Post a Comment