ابد کے طشت میں کچھ پھول اور ستارے لیے
یہ میں ہوں دُور سے آیا ہُوا تمہارے لیے
دیارِ گِریہ کی گلیوں میں ایسی پھسلن ہے
بشر گزرتے ہیں دیواروں کے سہارے لیے
بچھا کے ان کو میں چاہے جدھر اتر جاؤں
رواں ہوں ناؤ میں دریا کے دو کنارے لیے
خدا سے خوف زدہ اتنا کر دیا گیا تھا
کہ ہم نے سانس بھی دنیا میں ڈر کے مارے لیے
یہی تھی شب جو زمیں سے گئی تھی نم لے کر
اب آسماں سے چلی آ رہی ہے تارے لیے
بہت سی خود میں تماثیل جمع کر لی ہیں
کچھ اپنے واسطے، کچھ خاص کر تمہارے لیے
شاہد ماکلی
No comments:
Post a Comment