Monday, 15 March 2021

جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے

 جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے

آپ نے اتنا رُلایا ہے کہ جی جانتا ہے

یاد بن کر تِری معصوم وفا نے ظالم

دل پہ وہ نقش بٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے

شوقِ گستاخ نے اکثر تمہیں برہم کر کے

ہائے وہ لطف اٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے

جب کبھی یاد دلایا ہے تخیل نے تمہیں

اس طرح یاد دلایا ہے کہ جی جانتا ہے

اتنا افسانۂ فُرقت کو کیا عشق نے ضبط

صرف یہ درس پڑھایا ہے کہ جی جانتا ہے

درسِ عبرت ہے مِرے دل کی تباہی طالب

خاک میں ایسا ملایا ہے کہ جی جانتا ہے


طالب باغپتی

No comments:

Post a Comment