اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے
میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑی کو
آدھی دنیا گھوم چکا ہوں،۔ آدھی دنیا باقی ہے
کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں
پھر کہتا ہوں پاگل! اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
اس کی خاطر لڑنے والو! تھوڑی ثابت قدمی اور
حق کی راہ میں لڑنے والا آخری دستہ باقی ہے
کیا معلوم کہ دونوں میں سے زیادہ برہم کون ہوا
آدھی روٹی، تھوڑا سالن، کس کا حصہ باقی ہے
اس کی خاطر بازاروں میں بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی
میں گم ہونے والا ہوں بس ہاتھ چھڑانا باقی ہے
ضیا مذکور
No comments:
Post a Comment