Sunday, 7 March 2021

اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

 اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے

چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے

دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست

کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے

میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑی کو

آدھی دنیا گھوم چکا ہوں،۔ آدھی دنیا باقی ہے

کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں

پھر کہتا ہوں پاگل! اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے

اس کی خاطر لڑنے والو! تھوڑی ثابت قدمی اور

حق کی راہ میں لڑنے والا آخری دستہ باقی ہے

کیا معلوم کہ دونوں میں سے زیادہ برہم کون ہوا

آدھی روٹی، تھوڑا سالن، کس کا حصہ باقی ہے

اس کی خاطر بازاروں میں بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی

میں گم ہونے والا ہوں بس ہاتھ چھڑانا باقی ہے 


ضیا مذکور

No comments:

Post a Comment