کس طرح چِیر کے دھرتی کا کلیجہ آخر
نسلِ آدم پہ زر و سیم اُٹھا لاتی ہے
کون سی ایسی حسیں شے ہے وہ، جس کی چاہت
کوہ کی چوٹی کی تسخیر کو اُکساتی ہے
کون سی آس ہے وہ، جس کا پکڑ کر دامن
چھانتے پھرتے ہیں صحراؤں کو بھی اہلِ فن
کون انسان ہے راکٹ پہ جو پرواز کرے
ماہ و انجم کے جہاں میں جو پہنچنا چاہے
کوئی دن میں یہ خبر بھی مجھے مل جائے گی
کوئی سیاروں کی دنیا سے نکل آیا ہے
قاضی نذرالاسلام
ترجمہ: احمد سعدی
No comments:
Post a Comment