ایک سجدہ قبول ہو جائے
ساری محنت وصول ہو جائے
وہ نظر بھر کے دیکھ لیں ہم کو
ہجر قدموں کی دھول ہو جائے
پیار ایسی زبان ہے جس میں
مسکراہٹ بھی پھول ہو جائے
دل کو سمجھا بجھا لیا شاید
زندگی با اصول ہو جائے
وہ نہ لہجے کا درد سمجھے تو
بات ہر اک فضول ہو جائے
جو محبت کو بھول کہتے ہیں
کیا خبر ان سے بھول ہو جائے
جس بھی آنگن میں بیٹیاں کھیلیں
رحمتوں کا نزول ہو جائے
مہناز بنجمن
No comments:
Post a Comment