ہم ہیں بے راہ تو کیا راہنما تم بھی نہیں
قافلے کے لیے پیغامِ درا تم بھی نہیں
جن پہ تھا صحنِ گلستاں میں چراغاں کا مدار
ان خزاں سوز چراغوں کی ضیا تم بھی نہیں
تم ہمیں خارِ گلستاں ہی سمجھ لو، لیکن
عندلیبوں کی دعاؤں کا صِلہ تم بھی نہیں
حق ہمارا نہ سہی نظمِ چمن میں لیکن
آشیانے کے مقدر کے خدا تم بھی نہیں
بے وفا کہہ کے ہمیں آج سکوں پاتے ہو
وقت بتلائے گا؛ آگاہِ وفا تم بھی نہیں
جوہر صدیقی
No comments:
Post a Comment