Tuesday, 14 December 2021

آئینے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا

آئینے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا

جھیل جیسی تِری آنکھوں میں یہ جھرنا کیسا

عمر بھر ساتھ رہو تو کہیں مہکے آنگن

کسی خوشبو کی طرح چھو کے گزرنا کیسا

وہ تو اک خواہش ناکام تھی جو چیخ پڑی

بے سبب اپنی ہی آواز سے ڈرنا کیسا

گرد شیشوں سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے

اندھے آئینوں کے آگے یہ سنورنا کیسا

پھینک دو بارِ الم کچھ تو سفر آساں ہو

بوجھ لادے ہوئے دنیا سے گزرنا کیسا

اے مِرے شورِ نفس بارِ سماعت سے گریز

نیند کے وقت صداؤں کا ابھرنا کیسا

گوشِ امید ہوئے جبکہ صداؤں کے اسیر

فتح پھر کوہِ ندا کا ضیا کرنا کیسا


ضیا فاروقی

No comments:

Post a Comment