افلاس تیرے جور و سِتم بھی ہیں بے شمار
چھینی ہے مجھ سے، تُو نے مِری زیست کی بہار
تھے دن ہنسی خوشی کے، مگر میں ہُوں مضمحل
کِھلنے کا یہ زمانہ تھا، مُرجھا گیا ہے دل
دستِ طلب بڑھاتا بھی ہُوں گو اِدھر اُدھر
آتی ہے مجھ کو سامنے صُورت تِری نظر
آنکھوں نے خواب کتنے ہی دیکھے حسیں حسیں
تعبیر لیکن، آہ! فقط اشکِ آتشیں
پہنچا تُو جس دیار پہ کاسہ لیے ہوئے
اٹھا وہاں سے حسبِ تمنا لیے ہوئے
دو دل دھڑک کے رات جہاں کرتے ہے بسر
ہوتا ہے چپکے چپکے وہاں بھی تِرا گزر
آواز تلخ تیری یہ کہتی ہے ہوشیار
خوشیاں ہیں کم جہاں میں، غم و رنج بے شمار
کچھ اور بھی ہے، صرف مسرت نہیں حیات
اک دِن وہ آئے گا کہ، نہ کاٹے کٹے گی رات
محوِ سفر تو رہتا ہے جیسے کوئی فقیر
لیکن جہاں بھی پڑتے ہیں تیری نظر کے تیر
بہت ہے اس مقام پہ سیلاب اشک آہ
چلتا ہے قحط و مرگ کا طوفان بے پناہ
تیرے لیے کہاں کی شرافت، کہاں کی لاج
جو سر نِگوں تھے تیرے سبب، سر گراں ہیں آج
لکشمی کا تاج خاک میں تُو نے ملا دیا
زندہ دلوں کو موت کا خواہاں بنا دیا
قاضی نذرالاسلام
ترجمہ: احمد سعدی
No comments:
Post a Comment