Thursday, 23 December 2021

مقام عشق ذرا سا بدل دیا ہم نے

 مقامِ عشق ذرا سا بدل دیا ہم نے

جنوں وہی رہا صحرا بدل دیا ہم نے

اتارا تو تھا کسی آئینے میں اپنا وجود

پھر اس کے بعد یہ چہرہ بدل دیا ہم نے

چھپا لیے در و دیوار تازہ بیلوں میں

کچھ ایسے نقشہ مکاں کا بدل دیا ہم نے

شبِ سیاہ سے گھبرا کے سو لیے دن کو

تمہارے خواب کا رستہ بدل دیا ہم نے

نکال لائے اندھیروں سے روشنی کی کرن

چراغ ٹوٹا ہوا تھا بدل دیا ہم نے

تمہاری سڑکوں پہ اتنے شجر لگائے ہیں

تمہارے شہر کا نقشہ بدل دیا ہم نے

بدن کی قید سے اکتائے اس قدر احسان

سو اپنا پہلا لبادہ بدل دیا ہم نے


احسان گھمن

No comments:

Post a Comment