گنگنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بڑبڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ایک رقاص نے گا گا کے سنائی یہ خبر
ناچ گانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
لان میں تین گدھے، اور یہ نوٹس دیکھا
گھاس کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے اندیشۂ فردا کی جُوئیں جھڑتی ہیں
سر کُھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
پھر تو تم سر پہ اٹھا لو گے زمانے بھر کو
سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
آپ کا گھر ہے رہیں شوق سے اس میں، لیکن
بیچ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اپنی کُشتی ہو میاں لاکھ فری سٹائل
کاٹ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ شریعت کا نہیں، گیس کا بل ہے بیگم
بِلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس کے رُخسار پہ ہے اور تِرے ہونٹ پہ تِل
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بس تمہیں اتنی اجازت ہے کہ شادی کر لو
شاخسانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے تجدیدِ تمنا کی ہوا آتی ہے
دُم ہلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اور یوں تو تم جال کا کر دو گے کباڑہ بچو
پھڑپھڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
پھر تو تم سر پہ اٹھا دو گے زمانے بھر کو
سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
مکتبِ فکر ہے سکول نہیں ہے صاحب
قومیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اٹھتے اٹھتے وہ مجھے روز جتا دیتے ہیں
روز آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اس سے مورال مسلمان کا گر جاتا ہے
دال کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ان کے ارشادِ گرامی کو عنایت سن کر
مسکرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
عنایت علی خان
No comments:
Post a Comment