لٹیرے ہیں وہاں جاوَ جہاں بھی
اماں دیتے ہیں کب دارالاماں بھی
اسی کی دسترس میں ہے سبھی کچھ
مکاں سے لے کے سُوئے لامکاں بھی
بنا لو تم ہمیں اپنا نشانہ
لو پکڑو تیر بھی ہے اور کماں بھی
یہ لمحے کھو دئیے گر آج تم نے
ملے گا پھر کہاں میرا نشاں بھی
اداسی کا کفن اوڑھے ہوئے ہے
بکھرتی، جھلملاتی کہکشاں بھی
شرارت بھی کرے، نادانیاں بھی
یہ دل بچہ بھی ہے، لیکن جواں بھی
تجھے دیکھا ہے برسوں بعد میں نے
نظر ہے شادماں بھی، پر فشاں بھی
گُنہ ہو گی مری ہر بے گُناہی
نہ تھا مجھ کو کبھی اس کا گماں بھی
عذرا ناز
No comments:
Post a Comment