مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے
اس لیے سب کو مجھ سے نفرت ہے
میرے کمرے میں اور کیا ہو گا
بس کتابیں ہیں اور وحشت ہے
دل کے اتنے وسیع رقبے پر💓
صرف اک شخص کی حکومت ہے
کیوں نہیں چھوڑتی مجھے تنہا
آپ کی یاد بھی مصیبت ہے
ایک سوکھا شجر ہوں اور پھر بھی
ان پرندوں کو مجھ سے الفت ہے
اک تو مفلس ہے اور بھوکا بھی
یعنی وہ قیدِ با مشقت ہے
صاف ظاہر ہے چشمِ پرنم سے
مجھ کو اس شخص کی ضرورت ہے
کیا ستم ہے میں ایک شاعر ہوں
اور اسے شاعری سے نفرت ہے
اویس قرنی
No comments:
Post a Comment