Saturday, 12 December 2020

مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے

 مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے

اس لیے سب کو مجھ سے نفرت ہے

میرے کمرے میں اور کیا ہو گا

بس کتابیں ہیں اور وحشت ہے

دل کے اتنے وسیع رقبے پر💓

صرف اک شخص کی حکومت ہے

کیوں نہیں چھوڑتی مجھے تنہا

آپ کی یاد بھی مصیبت ہے

ایک سوکھا شجر ہوں اور پھر بھی

ان پرندوں کو مجھ سے الفت ہے

اک تو مفلس ہے اور بھوکا بھی

یعنی وہ قیدِ با مشقت ہے

صاف ظاہر ہے چشمِ پرنم سے

مجھ کو اس شخص کی ضرورت ہے

کیا ستم ہے میں ایک شاعر ہوں

اور اسے شاعری سے نفرت ہے


اویس قرنی

No comments:

Post a Comment