برسوں سے جو لگی تھی وہ عادت بدل گئی
دن چار ہی تھے گزرے، محبت بدل گئی
اک تشنگی سی باقی ہے ہونٹوں پہ آج تو
ظالم وہ پہلے والی ملاحت بدل گئی
لوگوں کی انگلیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
شکرِ خدا کہ تیری ملامت بدل گئی
ہم پر نثار ہونے کی بات کرتا تھا تُو
تُو خود بدل چکا یا ارادت بدل گئی
ہنسنا سکھا کے تُو نے رُلایا بھی خوب ہے
ہنسنے ہنسانے والی روایت بدل گئی
مانا کہ دھول مٹی سے گِھن ہے تجھے بڑی
آ جا کہ اب تو گاؤں کی حالت بدل گئی
عدنان حسن زار
No comments:
Post a Comment