رات گہری ہے گھر گیا ہو گا
اب وہ پاگل سُدھر گیا ہو گا
جس کو اس نے چُھوا تھا ہمدم وہ
پُھول تو اب نِکھر گیا ہو گا
اس پہ الزام تھا محبت کا
قتل گہ میں ٹھہر گیا ہو گا
نرم سـا لہجہ اور حسیں آنکھیں
ان اداؤں پہ مر گیا ہو گا
لگ چکی تھی اسے جنوں کی چاٹ
دشت میں وہ اتر گیا ہو گا
اویس قرنی
No comments:
Post a Comment