Thursday, 23 December 2021

معجزے جو کبھی رونما نہ ہوں گے

 معجزے


وہ معجزے جن کی آس پر ہم

اپنی زندگی گزار رہے ہیں

معجزے جو کبھی رونما نہ ہوں گے

وہ خواب، وہ حسیں خواب

ہم ہر دن جو بُنتے ہیں

ایک ایک نقش جن کا چُنتے ہیں

اِک پل میں بکھر جاتے ہیں

جاگتا ہے جب احساس اور ہم سوچتے ہیں

کہ وقت ہی نہیں رہا اب

جو بیت چکا ہے

وقت جو اختتام کی دہلیز پہ ہے

لمحہ در لمحہ ہم نے جو کچھ سوچا تھا

سب ادھورا رہ گیا ہے

جیسے کسی فنکار کا وہ شہکار

جسے مکمل کرنے میں اُس نے

اپنی تمام زندگی وقف کردی ہو

جس کے تخیل میں اُس نے

اپنی ساری سانسیں لے لی ہوں

پھر بھی وہ مکمل نہ ہو سکا

احساس کا وہ لمحہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے

اِس پچھتاوے کا تم اندازہ نہیں لگا سکتے

صرف چند آنسو اور کاش کی صدا ہی

مقدر بن جاتی ہے

اور زندگی

ختم ہو جاتی ہے


حارث علی

No comments:

Post a Comment