Thursday, 23 December 2021

لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

 لوگ اٹھ جائیں گے ان کے تذکرے رہ جائیں گے

اب یہاں انسانیت کے مقبرے رہ جائیں گے

ہونٹ سی دے گا تو ہاتھوں کو زباں مل جائے گی

ضابطے تیرے سبھی کے سب دھرے رہ جائیں گے

گر تِری مردم شناسی کی یہی حالت رہی

تیرے چاروں اور سارے مسخرے رہ جائیں گے

شہر والوں کو امیرِ شہر جل دے جائے گا

دل میں نفرت آنکھ میں آنسو بھرے رہ جائیں گے

ظلم کی تحریر بالآخر مٹا دی جائے گی

حرف اڑ جائیں گے خالی ماترے رہ جائیں گے

موت کا پھندا تو ہے سب کے گلے میں آفتاب

ہم چلے جائیں گے تو کیا دوسرے رہ جائیں گے


آفتاب احمد شاہ

No comments:

Post a Comment