Thursday, 23 December 2021

آدھی گواہی ہم ان کی خباثتوں کا گواہ لائیں کہاں سے

 آدھی گواہی

 

عظیم منصف

ہماری قسمت کی ہر عدالت کا فیصلہ ہے

کہ اپنی بے حرمتی کی فرمان لے کے جائیں

تو اپنا کوئی گواہ لائیں

گواہ

رشتوں کے محترم کنڈلیوں میں بیٹھے

سنپولیوں کا

گواہ ایسی حویلیوں کا

کہ جن میں قانون پاؤں دھرنے سے کپکپائے

کنواری چیخیں

بلک بلک کے صدائیں کرتی

ان ہی اندھیروں میں ڈوب جائیں

مگر وہ اس بے بسی کا اپنی

نہ ایک کوئی گواہ پائیں

کہاں سے لائیں

گواہ ان بھیڑیوں کا

جو اپنی شہوتوں پر

عبادتوں کی مقدس و محترم عبائیں

سجائے بیٹھے ہوں تاک میں

سوندھے کچے جسموں کے

جن کے بجروں کے عود میں

سسکیاں سلگتی ہوں رات کو

اور دن تلاوت کے لحن سے

جگمگائے جائیں

یہ محترم بھیڑیے

ہم ان کی خباثتوں کا گواہ لائیں

کہاں سے لائیں

ہمیں کوئی ایسا معجزہ دے

کہ گونگی اندھی سیاہ شب کو

گواہیوں کا ہنر سکھائیں

خبیر ہے تُو

بصیر ہے تُو

تُو جانتا ہے

کہ آج تک موت کے علاوہ

کوئی نہ اپنا گواہ پایا

ہمیں پہ ٹوٹیں قیامتیں بھی

ہمیں نے ذلت کا بار اٹھایا

کتاب انصاف کے مصنف

تِرے صحیفے تو کہہ رہے ہیں

کہ سارے انسان ذی شرف ہیں

فہیم ہیں

بالغ النظر ہیں

سب اپنی اپنی کتاب کی رو سے اپنے بارے میں با خبر ہیں

تو پھر ہمارے ہی پشت پر ہاتھ کیوں بندھے ہیں

ہماری ہی سب گواہیوں پر یہ بے یقینی کی مہر کیوں ہے

سبھی صحیفوں میں یہ لکھا ہے

تِرے ترازو کا

کوئی پلڑا جھکا نہیں ہے

تو کیا یہ سمجھیں؟

ہمارا کوئی خدا نہیں ہے


نسیم سید

No comments:

Post a Comment