Sunday, 13 March 2022

غم ہلکا ہو بھی سکتا ہے وہ میرا ہو بھی سکتا ہے

 غم ہلکا ہو بھی سکتا ہے

وہ میرا ہو بھی سکتا ہے

ہو سکتا ہے وہ آیا ہو

ہو سایا، ہو بھی سکتا ہے

عشق نہیں ہے دھوکا، لیکن

یہ ہونا، ہو بھی سکتا ہے

آج کا بے حد کوئی بُرا شخص

کل اچھا ہو بھی سکتا ہے

آج ہے میرا جینا دوبھر

کل تیرا ہو بھی سکتا ہے

کھو سکتی ہے دل کی رونق

سناٹا ہو بھی سکتا ہے

سائے سے کیا خطرہ لیکن

یہ خطرہ ہو بھی سکتا ہے

ہاں تیرا ہو سکتا ہے وہ

سوچ ذرا، ہو بھی سکتا ہے

ڈھلتی دھوپ میں تیرا سایہ

تجھ سے بڑا ہو بھی سکتا ہے

آج یہ کھوٹا سکہ کل تک

سرمایہ ہو بھی سکتا ہے

میں نے کہا؛ کیا تم بھی ہو میرے

فرمایا، ہو بھی سکتا ہے

کل وہ بھی ہو جائے مضطر

ہاں، ایسا ہو بھی سکتا ہے


آفتاب مضطر

No comments:

Post a Comment