تمام مے سے چھلکتے ہوئے ایاغ تھکے
شبِ فراق کے سائے میں جب چراغ تھکے
قصور وار مسیحائیاں نہیں ہوں گی
ہمارے دل سے اگر تیرے غم کے داغ تھکے
مسافروں سے رقابت کی آڑ میں سورج
تِری تپش سے کئی سایہ دار باغ تھکے
تِرے خیال کی وادی تو پُر مسرت ہے
تِرے خیال کی وادی سے کیوں دماغ تھکے
کبوتروں کے زمانے ہوں یا عقابوں کے
بلندیوں کے تصور سے صرف زاغ تھکے
مصداق اعظمی
No comments:
Post a Comment