Friday, 2 July 2021

لقمہ بنے گا موت کی چکی کے پاٹ کا

 لُقمہ بنے گا موت کی چکی کے پاٹ کا

مِٹ جائے گا نشان تِرے ٹھاٹ باٹ کا

وحشت سے نوچتی پھِرو گی اپنے بال تم

دیکھا نہیں ہے تم نے ابھی غصہ جاٹ کا

بھرتے نہیں ہیں رُوح کے گھاؤ کبھی صنم

مرہم نہیں ہے کوئی بھی لفظوں کی کاٹ کا

عزت نہ اتنی دیجئے، آنسو نکل پڑیں

رُخسار پر اثر ہے یہ پچھلے چماٹ کا

کہہ کر یہ بات مجھ کو وہ حیران کر گیا

مخمل میں جچتا ہے کہیں پیوند ٹاٹ کا

دنیا تِرے فریب میں آنے کا اب نہیں

پانی پیا ہے میں نے بنارس کے گھاٹ کا

سایہ تھا والدین کا جب تک نہیں بِکا

آخر کو حصہ ہو گیا واحد پلاٹ کا


صائم علی

No comments:

Post a Comment