دشت کی تشنگی بڑھاتا ہوں
میں اداسی کے کام آتا ہوں
تُو مجھے عشق کی سہولت دے
میں تِرا ضبط آزماتا ہوں
قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں
پھر انہیں خودکشی سکھاتا ہوں
اک تھکن راستے میں ملتی ہے
اک تھکن گھر سے لے کے جاتا ہوں
وصل کی چُسکیاں لگاتے ہوئے
ہجر کا ذائقہ بتاتا ہوں
شام کے سُرمئی پرندوں کو
چاندنی اوڑھنا سکھاتا ہوں
دیکھتا ہوں کہیں پڑا خود کو
اور بہت دیر مسکراتا ہوں
وسیم حیدر جعفری
No comments:
Post a Comment