Wednesday, 11 November 2020

آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا

وہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا

خم چم تمام اپنا بس اک اس کے دم سے تھا

وہ کیا گیا کہ آگ بھی پانی بھی لے گیا

ٹوٹا تعلقات کا آئینہ اس طرح

عکس نشاط لمحۂ فانی بھی لے گیا

کوچے میں ہجرتوں کے ہوں سب سے الگ تھلگ

بچھڑا وہ یوں کہ ربط مکانی بھی لے گیا

تھے سب اسی کے لمس سے جل تھل بنے ہوئے

دریا مڑا تو اپنی روانی بھی لے گیا

اب کیا کھلے گی منجمد الفاظ کی گرہ

وہ ہمت کشود معانی بھی لے گیا

سر جوشیٔ قلم کو فضؔا چپ سی لگ گئی

وہ جاتے جاتے شعلہ بیانی بھی لے گیا


فضا ابن فیضی

No comments:

Post a Comment