Wednesday, 11 November 2020

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں

 وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں

جنہیں اب تم چاہا کرتے ہو

تم کہتے تھے

مری آنکھیں، اتنی اچھی، اتنی سچی ہیں

اس حسن اور سچائی کے سوا، دنیا میں کوئی چیز نہیں

کیا ان آنکھوں کو دیکھ کے بھی

تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو

تم کہتے تھے

مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے

مری روح اگر اک بار اتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہو جائے

مجھے اتنا بتاؤ

آج تمہاری روح کا رنگ پیراہن کیا ہے

کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں

یہ کالی بھوری آنکھیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں

کیا ان آنکھوں کے رنگ میں بھی، یوں دونوں وقت ملا کرتے ہیں؟

کیا سُورج ڈوبنے کا لمحہ، ان آنکھوں میں بھی ٹھہر گیا

یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟

مری پلکیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

ان کی چھاؤں تمہارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلا دے

تو گزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں

کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں

جنہیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو

تم کہتے تھے

مری آنکھیں یونہی اچھی ہیں

ہاں کاجل کی دھندلائی ہوئی تحریر بھی ہو تو

بات بہت دلکش ہو گی

وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی

کیا ان کا کاجل خود ہی مٹ جاتا ہے

کبھی یہ بھی ہوا

کسی لمحے تم سے روٹھ کے وہ آنکھیں رو دیں

اور تم نے اپنے ہاتھ سے ان کے آنسو خشک کیے

پھر جھک کر ان کو چوم لیا

کیا ان کو بھی


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment