عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
میں تو خود انﷺ کے درکا گدا ہوں اپنےآقاﷺ کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
آنے والی ہے انﷺ کی سواری، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں
میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں
میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے، میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے
اپنی آنکھوں کی چاندی بہا دوں، اپنے ماتھے کا سونا لٹا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ یہ گہر یوں ہی کیسے لٹا دوں
قافلے جا رہے ہیں مدینے اور حسرت سے میں تک رہا ہوں
یا لپٹ جاؤں قدموں سے انؐ کے یا قضا کو میں اپنی صدا دوں
میں فقط آپﷺ کو جانتا ہوں اور اسی در کو پہچانتا ہوں
اس اندھیرے میں کس کو پکاروں آپؐ فرمائیں کس کو صدا دوں
میری بخشش کا ساماں یہی ہے، اور دل کا بھی ارماں یہی ہے
ایک دن انؐ کی خدمت میں جا کر انؐ کی نعتیں انہی کو سنا دوں
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment