Tuesday, 2 May 2023

میں تو خود ان کے درکا گدا ہوں اپنےآقا کو میں نذر کیا دوں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


میں تو خود انﷺ کے درکا گدا ہوں اپنےآقاﷺ کو میں نذر کیا دوں

اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں

آنے والی ہے انﷺ کی سواری، پھول نعتوں کے گھر گھر سجا دوں

میرے گھر میں اندھیرا بہت ہے، اپنی پلکوں پہ شمعیں جلا دوں

میری جھولی میں کچھ بھی نہیں ہے، میرا سرمایہ ہے تو یہی ہے

اپنی آنکھوں کی چاندی بہا دوں، اپنے ماتھے کا سونا لٹا دوں

میرے آنسو بہت قیمتی ہیں ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں

ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ یہ گہر یوں ہی کیسے لٹا دوں

قافلے جا رہے ہیں مدینے اور حسرت سے میں تک رہا ہوں

یا لپٹ جاؤں قدموں سے انؐ کے یا قضا کو میں اپنی صدا دوں

میں فقط آپﷺ کو جانتا ہوں اور اسی در کو پہچانتا ہوں

اس اندھیرے میں کس کو پکاروں آپؐ فرمائیں کس کو صدا دوں

میری بخشش کا ساماں یہی ہے، اور دل کا بھی ارماں یہی ہے

ایک دن انؐ کی خدمت میں جا کر انؐ کی نعتیں انہی کو سنا دوں


اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment