جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو
یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا
وطن کے ہے اندر یہ کیسی سیاست
کہیں تم نے دیکھی ہے ایسی سیاست
یہ ہیں جس طرح کے ہے ویسی سیاست
یہ کرتے ہیں اپنے ہی جیسی سیاست
جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو
یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا
بنے ہیں بکاؤ جو انسان سارے
یہ کرسی کی خاطر ہیں یکجان سارے
کرپشن کی گلیوں کا عُنوان سارے
یہ کاغذ کے پھولوں کا گُلدان سارے
جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو
یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا
بڑی مشکلوں بعد حالات بدلے
نئی صبح میں ہیں جو دن رات بدلے
پلٹ کر وہیں ہم کو جانا نہیں ہے
یہ پہلے کے جیسا زمانہ نہیں ہے
جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو
یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا
عائشہ مسعود ملک
No comments:
Post a Comment