Monday, 1 May 2023

جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو

 جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو

یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا


وطن کے ہے اندر یہ کیسی سیاست

کہیں تم نے دیکھی ہے ایسی سیاست

یہ ہیں جس طرح کے ہے ویسی سیاست

یہ کرتے ہیں اپنے ہی جیسی سیاست

جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو

یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا


بنے ہیں بکاؤ جو انسان سارے

یہ کرسی کی خاطر ہیں یکجان سارے

کرپشن کی گلیوں کا عُنوان سارے

یہ کاغذ کے پھولوں کا گُلدان سارے

جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو

یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا


بڑی مشکلوں بعد حالات بدلے

نئی صبح میں ہیں جو دن رات بدلے

پلٹ کر وہیں ہم کو جانا نہیں ہے

یہ پہلے کے جیسا زمانہ نہیں ہے

جو منظر دکھائی دیا آج ہم کو

یہ منظر کبھی ہم نے سوچا نہیں تھا


عائشہ مسعود ملک

No comments:

Post a Comment