عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں
سجائے بیٹھا ہوں اک جلوہ زار آنکھوں میں
جو دن مدینے میں گزرے ہیں اُنؐ کا کیا کہنا
رچے ہوئے ہیں وہ لیل و نہار آنکھوں میں
دیارِ پاک کا ہر منظر حسین و جمیل
رہے گا تا بہ قضا یادگار آنکھوں میں
عطا کیا جو مدینے کے باسیوں نے مجھے
مہک رہا ہے ابھی تک وہ پیار آنکھوں میں
دیارِ پاک کی جن کو ہوئی ہے دید نصیب
میں ڈھونڈ لوں گا وہ آنکھیں ہزار آنکھوں میں
سناؤں گا وہ کہانی حضورﷺ کو جا کر
چھپائے بیٹھا ہوں جو اشکبار آنکھوں میں
ہے اعتماد بھی اقبال کو شفاعت پر
سزا کا خوف بھی ہے گناہگار آنکھوں میں
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment