عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسینؑ نام ہے باغِ وفا کی نکہت کا
حسینؑ نام ہے ہر پھول سے محبت کا
دوبارہ دین محمدﷺ نے زندگی پائی
حسینؑ نام ہے اسلام کی حفاظت کا
بدل دیا تھا لہو نے نظام کون و مکاں
حسینؑ نام ہے عاشور کی قیامت کا
بلندیاں ہیں انہیں کی ولا سے وابستہ
حسینؑ نام ہے دونوں جہاں کی عظمت کا
یہی سمجھ کے تو آئے تھے دہر میں آدم
حسینؑ نام ہے انسان کی خلافت کا
نہ ہوتے یہ تو نہ ہوتا جہاں میں دین خدا
حسینؑ نام ہے توحید کی قدامت کا
خدا کا شکر مصیبت سے بچ گیا اسلام
حسینؑ نام ہے رد بلائے بیعت کا
بلند نیزے پہ جنبش لبوں کی کہتی ہے
حسینؑ نام ہے قرآن کی فصاحت کا
حسینیت نے دہائی ہے شرک کی طاقت
حسینؑ نام ہے معبود تیری وحدت کا
وہ جذب جس میں کہ مذہب کی کوئی قید نہیں
حسینؑ نام ہے انسان سے محبت کا
نہ سمجھے کوئی مگر ہم سمجھتے ہیں ماتھر
حسینؑ نام ہے اسلام کی صداقت کا
ماتھر لکھنوی
وشوناتھ پرشاد
No comments:
Post a Comment