Saturday, 4 December 2021

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

از افق تا بہ افق ایک ہی جلوہ دیکھوں

جس طرف آنکھ اٹھے روضۂ والا دیکھوں

عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں

دستِ امروز میں آئینۂ فردا دیکھوں

میں کہاں ہوں، یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظریں

دل سنبھل جائے تو میں جانبِ خضرا دیکھوں

میں نے جن آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی شہرِ نبیؐ

اور ان آنکھوں سے اب کیا کوئی جلوہ دیکھوں

بعد رحلت بھی جو سرکارﷺ کو محبوب رہا

اب ان آنکھوں سے میں خوش بخت وہ حجرہ دیکھوں

فقر و فاقہ ہی رہا جس کے مکینوں کا نصیب

چشمِ عبرت سے میں وہ مسکنِ زہراؑ دیکھوں

جالیاں دیکھوں کے دیوار و در و بامِ حرم

اپنی معذور نگاہوں سے میں کیا کیا دیکھوں

میرے مولا مِری آنکھیں مجھے واپس کر دے

تا کہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں

جن گلی کوچوں سے گزرے ہیں کبھی میرے حضورؐ

ان میں تا حدِ نظر نقشِِ کفِ پا دیکھوں

تا کہ آنکھوں کا بھی احسان اٹھانا نہ پڑے

قلب خود آئینہ بن جائے میں اتنا دیکھوں

کاش اقبال یوں ہی عمر بسر ہو میری

صبح کعبے میں ہو اور شام کو طیبہ دیکھوں


اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment