Saturday, 4 December 2021

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

 گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

دستکیں دیجئے لوگوں کے دلوں پر صاحب

جتنی بڑھتی گئیں تنہائیاں جسم و جاں کی

گہرا ہوتا گیا آنکھوں کا سمندر صاحب

دور تک اس کو بچھڑتے ہوئے ہم دیکھ سکیں

روک لو آنسو کہ دھندلائے نہ منظر صاحب

شہر جادو کا ہے چلتے رہو بس چلتے رہو

مڑ کے دیکھو گے تو ہو جاؤ گے پتھر صاحب

کوئی پانی بھری تھالی مِرے آگے رکھ دے

خواہشیں ہو گئیں اب چاند برابر صاحب


ضمیر کاظمی

No comments:

Post a Comment