Saturday, 4 December 2021

خرابی ہے محبت میں محبت میں خرابی ہے

 خرابی ہے محبت میں


خرابی ہے محبت میں

محبت میں خرابی ہے

یہ قبریں پانیوں میں گُھل رہی ہیں

سو ان کے استخواں دیکھو

میں مجنوں کو لڑکپن میں بہت رویا

بہت رویا میں مجنوں کو لڑکپن میں

کہ پانی مٹیوں سے پھوٹتا تھا اور 

مٹی گُھل رہی تھی پانیوں میں

سو اس کے استخواں دیکھو

محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی 

اس کے گھر جانا

کہ آنکھیں دُھل گئی ہیں اور چہرہ دھوپ دیتا ہے

گہن کی مار ہو اس آنکھ پر 

جو اس گھٹا میں دھوپ دیکھے

محبت رات مجھ سے کہہ رہی تھی

اس کے گھر جانا

محبت کی خرابی ہے

یہ قبریں پانیوں میں گُھل رہی ہیں


انور خالد

No comments:

Post a Comment