خود ہی سنگ و خِشت خود ہی سر جنون سر ہوں میں
خود ہی میں نخچیر دانہ خود ہی بال و پر ہوں میں
منتظر ہوں ایک قطرے کا جو دے اذنِ سفر
دیکھ مدت سے ہے جو ویراں پڑا وہ گھر ہوں میں
اتنا سادہ دل کہ درد دل کے حق میں جان دوں
پر در کعبہ نہ جاؤں اس قدر خود سر ہوں میں
اس قدر وحشی کہ خود پی جاؤں اپنا خون دل
اتنا شائستہ کہ شہرِ عشق کا دلبر ہوں میں
تشنہ لب پر کچھ ادب واجب نہیں دریاؤں کا
یہ سبب ہے جو روایت سے کھڑا باہر ہوں میں
اس قدر تنہا کہ ڈر جاتا ہوں اپنی سانس سے
اتنا پیچیدہ کہ اپنی ذات میں لشکر ہوں میں
چند گھڑیاں اور ہے یہ حبس کا موسم فقیہ
رخ ہوا کا دیکھ سکتا ہے جو دیدہ ور ہوں میں
احمد فقیہ
No comments:
Post a Comment