Saturday, 4 December 2021

جب تلک تیرا سہارا ہے مجھے

 جب تلک تیرا سہارا ہے مجھے

گہرا پانی بھی کنارا ہے مجھے

نہ بھی چمکے تو کوئی بات نہیں

تُو تو ویسے ہی ستارا ہے مجھے

آپ موجود کو رد کرتے ہیں

میرا متروک بھی پیارا ہے مجھے

مل گئی ہو گی غلط بس میں نشست

جس نے منزل پہ اتارا ہے مجھے

کون مانے گا مِرے قاتل نے

برف کی نوک سے مارا ہے مجھے


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment