جب تلک تیرا سہارا ہے مجھے
گہرا پانی بھی کنارا ہے مجھے
نہ بھی چمکے تو کوئی بات نہیں
تُو تو ویسے ہی ستارا ہے مجھے
آپ موجود کو رد کرتے ہیں
میرا متروک بھی پیارا ہے مجھے
مل گئی ہو گی غلط بس میں نشست
جس نے منزل پہ اتارا ہے مجھے
کون مانے گا مِرے قاتل نے
برف کی نوک سے مارا ہے مجھے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment