Saturday, 10 September 2022

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر، ہم بھی بے بس نہیں، بے سہارا نہیں

خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے،۔ اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا،۔۔۔ بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے، خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

نامِ آقاﷺ جہاں بھی لیا جائے گا، ذکر انﷺ کا جہاں بھی کیا جائے گا

نُور ہی نُور سینوں میں بھر جائے گا، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

اے مدینے کے زائر خدا کے لیے،۔ داستانِ سفر مجھ کو یوں مت سنا

بات بڑھ جائے گی، دل تڑپ جائے گا، میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے

انؐ کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر،۔۔ کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر

ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی، ہم بھی آقاؐ کے دربار تک جائیں گے


اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment