Sunday, 4 October 2020

ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

 ہر چند گام گام حوادث سفر میں ہیں

وہ خوش نصیب ہیں جو تِری رہگزر میں ہیں

تاکید ضبط عہد وفا اذن زندگی

کتنے پیام اک نگہِ مختصر میں ہیں

ماضی شریک حال ہے کوشش کے باوجود

دھندلے سے کچھ نقوش ابھی تک نظر میں ہیں

للہ اس خلوص سے پُرسش نہ کیجیئے

طوفان کب سے بند مِری چشم تر میں ہیں

منزل تو خوش نصیبوں میں تقسیم ہو چکی

کچھ خوش خیال لوگ ابھی تک سفر میں ہیں

محفل میں ان کی سمت نگاہیں نہ اٹھ سکیں

ہم بالخصوص اہل نظر کی نظر میں ہیں

یہ کیسے راہرو تھے کہ ہر نقش پا کے ساتھ

سجدوں کے کچھ نشان بھی اس رہگزر میں ہیں


اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment