Sunday, 4 October 2020

کچھ ذکر کرو اس موسم کا جب رم جھم رات رسیلی تھی

 کچھ ذکر کرو اس موسم کا جب رم جھم رات رسیلی تھی

جب صبح کا روپ رو پہلا تھا جب شام بہت شرمیلی تھی

جب پھول مہکتی راہوں پر قدموں سے گجر بج اٹھتے تھے

جب تن میں سانس کے سرگم کی ہر دیپک تان سریلی تھی

جب خواب سراب جزیروں میں خوش فہم نظر گھل جاتی تھی

جب پیار پون کے جھونکوں سے ہر یاد کی موج تشیلی تھی

امرت کی مہک تھی باتوں میں نفرت کے شرر تھے پلکوں پر

وہ ہونٹ نہایت میٹھے تھے، وہ آنکھ بہت زہریلی تھی

محسن اس شہر میں مرنے کو اب اس کے سوا کچھ یاد نہیں

کچھ زہر تھا شہر کے پانی میں کچھ خاک کی رنگت نیلی تھی


محسن نقوی

No comments:

Post a Comment