عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا
مجھ سا ناچیز درِ شاہِ اممﷺ تک پہنچا
ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن
اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا
کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام
اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا
اس کو کیا کہتے ہیں اربابِ خرد سے پوچھو
کیسے اک اُمی لقب لوح و قلم تک پہنچا
راز اس اشکِ ندامت کا کوئی کیا جانے
آنکھ سے چل کے جو دامانِ کرم تک پہنچا
نعت کہنے کو قلم جب بھی اٹھایا اقبال
قطرۂ خونِ جگر نوکِ قلم تک پہنچا
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment