Thursday, 9 December 2021

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آج اشک میرے نعتؐ سنائیں تو عجب کیا

سن کر وہؐ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا

اُنﷺ پر تو گنہ گار کا سب حال کُھلا ہے

اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا

منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہ گار بہت ہوں

میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا

اے جوشِ جنوں پاسِ ادب، بزم ہے جن کی

اس بزم میں تشریف وہ لائیں تو عجب کیا

دیدار کے قابل تو نہیں چشمِ تمنا

لیکن وہ کبھی خواب میں آئیں تو عجب کیا

پابندِ نوا تو نہیں فریاد کی رسمیں

آنسو یہ مِرا حال سنائیں تو عجب کیا

نہ زادِ سفر ہے نہ کوئی کام بھلے ہیں

پھر بھی مجھے سرکارﷺ بلائیں تو عجب کیا

حاصل جنہیں آقاﷺ کی غلامی کا شرف ہے

ٹھوکر سے وہ مردوں کو جِلائیں تو عجب کیا

وہ حسنِ دو عالم ہیں ادیب ان کے قدم سے

صحرا میں اگر پھول کھل آئیں تو عجب کیا


ادیب رائے پوری

No comments:

Post a Comment