عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں نے خاکِ درِ حساؓن کو سُرمہ جانا
اور ایک ایک سبق نعتﷺ کا ازبر رکھا
میں نے قرآن کی تفسیر میں سیرت کو پڑھا
نور کو دائرۂ نور کے اندر رکھا
نورِ مطلق نے اسے خلق کیا خلق سے قبل
منصبِ کارِ رسالتﷺ میں مؤخر رکھا
معنئ اجرِ رسالت کو سمجھنے کے لیے
زیرِ نگرانی سلمانؓ و ابو ذرؓ رکھا
خاتمیت کا شرف آپؐ کو بخشا اور پھر
آپؐ کی دسترسِ خاص میں کوثر رکھا
تختی لکھی تو اسی نام سے آغاز کیا
جس کو معبود نے ہر نام سے اوپر رکھا
منزلِ شُکر کہ ہر گام خوشی ہو کہ الم
وِرد اک اسمِ گرامی کا برابر رکھا
عمر بھر ٹھوکریں کھاتا نہ پھروں شہر بہ شہر
ایک ہی شہر میں اور ایک ہی در پر رکھا
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment